*حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت* 🥺
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے بڑے ناز کے پلے ہوئے اور مالدار لڑکوں میں تھے۔ ان کے والدین ان کے لئے دو دو سو درہم کا جوڑا خرید کر پہناتے تھے۔ نو عمر تھے، بہت زیادہ ناز و نعمت میں پرورش پاتے تھے۔ اسلام کے شروع ہی زمانے میں گھر والوں سے چھپ کر مسلمان ہو گئے اور اسی حالت میں رہتے۔ کسی نے ان کے گھر والوں کو بھی خبر کر دی۔ انہوں نے ان کو باندھ کر قید کر دیا۔ کچھ روز اسی حالت میں گزرے اور جب موقع ملا تو چھپ کر بھاگ گئے اور جو لوگ حبشہ کی ہجرت کر رہے تھے ان کے ساتھ ہجرت کر کے چلے گئے۔
وہاں سے واپس آ کر مدینہ منورہ کی ہجرت فرمائی اور زہد و فقر کی زندگی بسر کرنے لگے۔ ایسی تنگی کی حالت تھی کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ سامنے سے گزرے، ان کے پاس صرف ایک چادر تھی جو کئی جگہ سے پھٹی ہوئی تھی اور ایک جگہ بجائے کپڑے کے چمڑے کا پیوند لگا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس حالت اور اس پہلی حالت کا تذکرہ فرماتے ہوئے آنکھوں میں آنسو بھر لئے۔
غزوۂ اُحد میں مہاجرین کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا۔ جب مسلمان نہایت پریشانی کی حالت میں منتشر ہو رہے تھے تو یہ جمے ہوئے کھڑے تھے۔ ایک کافر ان کے قریب آیا اور تلوار سے ہاتھ کاٹ دیا کہ جھنڈا گر جائے اور مسلمانوں کو گویا کھلی شکست ہو جائے۔ انہوں نے فوراً دوسرے ہاتھ میں لے لیا۔ اس نے دوسرے ہاتھ کو بھی کاٹ ڈالا۔ انہوں نے دونوں بازوؤں کو جوڑ کر سینے سے جھنڈے کو چمٹا لیا کہ گرے نہیں۔ اس نے ان کو تیر مارا جس سے شہید ہو گئے، مگر زندگی میں جھنڈے کو نہ گرنے دیا۔ اس کے بعد جھنڈا گرا جس کو فوراً دوسرے شخص نے اٹھا لیا۔
جب ان کو دفن کرنے کی نوبت آئی تو صرف ایک چادر ان کے پاس تھی جو پورے بدن پر نہیں آتی تھی۔ اگر سر کی طرف سے ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں کی طرف کی جاتی تو سر کھل جاتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ چادر کو سر کی جانب کر دیا جائے اور پاؤں پر اذخر (گھاس) کے پتے ڈال دیئے جائیں۔
یہ آخری زندگی ہے اس ناز و نعمت میں پلے ہوئے کی، جو دو سو درہم کا جوڑا پہنتا تھا کہ آج اس کو کفن ایک چادر بھی پوری نہیں ملتی۔ اور اس پر ہمت یہ کہ زندگی میں جھنڈا نہ گرنے دیا۔ دونوں ہاتھ کٹ گئے مگر پھر بھی اس کو نہ چھوڑا۔ بڑے نازوں کے پلے ہوئے تھے، مگر ایمان ان لوگوں کے دلوں میں کچھ اس طرح سے جم جاتا تھا کہ پھر وہ اپنے سوا کسی چیز کو نہ چھوڑتے تھے۔ روپیہ، پیسہ، راحت، آرام ہر قسم کی چیز سے ہٹ کر اپنے آپ کو اللہ کے لئے وقف کر لیتے تھے۔
الصحیح البخاری کتاب مناقب الانصار ، باب ہجرۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ، 3798,(5/52)